صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
612. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر إخراج المصطفى صلى الله عليه وسلم إلى البقيع من وجد منه رائحة البصل والثوم
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شخص کو بقیع کی طرف نکالنے کا ذکر جس سے پیاز اور لہسن کی بو آتی تھی
حدیث نمبر: 2091
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النُّكْرِيُّ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ: رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، وَلا أَرَى ذَلِكَ إِلا لِحُضُورِ أَجَلِي، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ، فَإِنَّ الشُّورَى إِلَى هَؤُلاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَنهُمْ رَاضٍ، وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّ نَاسًا سَيَطْعَنُونَ فِي هَذَا الأَمْرِ، أَنَا قَاتَلْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الإِسْلامِ، فَإِنْ فَعَلُوا، فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ، الْكُفَّارُ الضُّلالُ، وَإِنِّي أَشْهَدُ عَلَى أُمَرَاءِ الأَمْصَارِ، فَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْئَهُمْ، وَمَا أَغْلَظَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ، أَوْ مَا نَازَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِثْلَ آيَةِ الْكَلالَةِ، حَتَّى ضَرَبَ صَدْرِي، وَقَالَ: " يَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ: يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176". وَسَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءٍ يَعْلَمُهُ مَنْ يَقْرَأُ، وَمَنْ لا يَقْرَأُ هُوَ مَا خَلا الأَبِ، وَكَذَا أَحْسَبُ، أَلا إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لا أَرَاهُمَا إِلا خَبِيثَتَيْنِ: الْبَصَلِ وَالثُّومِ، وَإِنْ" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالرَّجُلِ يُوجَدُ مِنْهُ رِيحُهَا فَيَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ كَانَ لا بُدَّ آكِلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا" .
معدان بن ابوطلحہ یعمری بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے، ایک سرخ رنگ کا مرغ ہے، جس نے مجھے ایک مرتبہ یا شاید دو مرتبہ ٹھونگا مارا ہے۔ میرا خیال ہے، اس کا مطلب یہ ہے میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے اگر میں جلد انتقال کر گیا تو شوری کا معاملہ ان چھ افراد کے سپرد ہو گا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے، تو آپ ان حضرات سے راضی تھے اور مجھے اس بات کا علم ہے کچھ لوگ اس حوالے سے پیچیدگی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں اپنے اس ہاتھ کے ذریعے اسلام پر ان لوگوں کے ساتھ جنگ کروں گا۔ اگر وہ پھر بھی ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن ہیں۔ وہ کفار اور گمراہ لوگ ہیں اور میں مختلف علاقوں کے گورنروں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں، میں نے ان کو اس لیے بھجوایا تھا تاکہ وہ لوگوں کو دین کی تعلیم دیں اور ان کے نبی کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کا مال ان کے درمیان تقسیم کریں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی چیز کے بارے میں اتنی زیادہ تاکید نہیں کی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی معاملے میں اتنے زیادہ اہتمام کے ساتھ دریافت نہیں کیا جتنا کلالہ سے متعلق آیت کے بارے میں دریافت کیا: یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور ارشاد فرمایا: تمہارے لیے گرمی میں نازل ہونے والی وہ آیت کافی ہے، جو سورہ النساء کے آخر میں نازل ہوئی تھی۔ ”لوگ تم سے دریافت کرتے ہیں: تم فرما دو،اللہ تعالیٰ کلالہ کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا) عنقریب میں اس بارے میں ایسا فیصلہ دوں گا، جسے وہ شخص جان لے گا، جو پڑھ سکتا ہے اور جو نہیں پڑھ سکتا اور وہ (فیصلہ) باپ کے علاوہ (کے لیے) ہو گا۔ اسی طرح میں یہ گمان کرتا ہوں۔ خبردار اے لوگو! تم لوگ ان دو درختوں (کا پھل) کھاتے ہو۔ میں یہ سمجھتا ہوں، یہ دونوں خبیث ہیں پیاز اور لہسن اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص سے اس کی بو محسوس ہوتی تھی، تو اس شخص کو بقیع کی طرف بھیج دیا جاتا تھا جس شخص نے ان دونوں کو ضرور کھانا ہو وہ انہی کو پکا کر اس کی بو کو ختم کر دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2088»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 156 / 2514): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم تنبيه!! وقع بعد جملة " ... وسكون الكاف" الصلاة على الرسول هكذا [ ... وسكون الكاف صلى الله عليه وسلم نسبة ... ] وهي خطأ مطبعي فحذفتها. - مدخل بيانات الشاملة -.
الرواة الحديث:
معدان بن أبي طلحة اليعمري ← عمر بن الخطاب العدوي