صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
626. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر الدال على أن هذا الأمر من المصطفى صلى الله عليه وسلم أمر فريضة وإيجاب لا أمر فضيلة وإرشاد
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم فرض اور واجب ہے، نہ کہ فضیلت اور رہنمائی
حدیث نمبر: 2105
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالأَمْرِ فَأَتَوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جن معاملات میں، میں تمہیں رہنے دوں تم بھی مجھے رہنے دو کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم لوگ اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کوئی کام کرنے کا حکم دوں تم اپنی استطاعت کے مطابق اس کو بجا لاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2105]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2102»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (850)، «الإرواء» (155 و 314).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي