صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
634. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المدحض تأويل هذا المتأول لهذا الأمر المطلق
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس متأول کی اس مطلق حکم کی تأویل کو رد کرتا ہے
حدیث نمبر: 2114
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ، فَوَقَعَ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَشْرَبَةٍ لِعَائِشَةَ جَالِسًا فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَلا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَصْنَعُ أَهْلُ فَارِسٍ بِعُظَمَائِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي قَوْلِ جَابِرٍ: فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ، بَيَانٌ وَاضِحٌ عَلَى دَحْضِ قَوْلِ هَذَا الْمُتَأَوِّلِ إِذِ الْقَوْمُ لَمْ يَتَشَهَّدُوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ قِيَامٌ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ فِي الصَّلاةِ الأُخْرَى: فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا، أَرَادَ بِهِ الْقِيَامَ الَّذِي هُوَ فَرْضُ الصَّلاةِ لا التَّشَهُّدَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے پر گرے تھے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پر چوٹ آئی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالا خانے میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی شروع کی اور ہم کھڑے ہوئے تھے، پھر جب ہم دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کی اور ہم اس وقت بھی کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ وہ بیٹھا ہوا ہو، تو تم لوگ کھڑے نہ ہو، جس طرح اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لیے کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ہم نے آپ کی نماز کی پیروی کی اور ہم اس وقت کھڑے ہوئے تھے، اس بات کا واضح بیان موجود ہے جو تاویل کرنے والے شخص کے موقف کو پرے کر دیتا ہے، کیونکہ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قیام کی حالت میں تشہد نہیں پڑھا تھا۔ اسی طرح دوسری نماز کے بارے میں راوی کا یہ کہنا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی اور ہم کھڑے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، اس کے ذریعے ان کی مراد وہ قیام ہے جو نماز میں فرض ہے، اس سے مراد تشہد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1487، 1615، 2660، 2661، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2112، 2114، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2848، وأبو داود فى (سننه) برقم: 602، 3863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3082، 3485، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1562، 1563، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14425» «رقم طبعة با وزير 2111»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: وهو مكرر (2109). تنبيه!! رقم (2109) = (2112) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2114 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري