صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
635. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر ثان يدل على فساد تأويل هذا المتأول لهذا الخبر
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس متأول کی اس خبر کی تأویل کے فساد کی دلیل ہے
حدیث نمبر: 2115
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي تَقْرِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَمْرَ لِلْمَأْمُومِينَ أَنْ يُصَلُّوا قِيَامًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَائِمًا بِالأَمْرِ بِالصَّلاةِ قُعُودًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ جَالِسًا، أَعْظَمُ الْبَيَانِ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرِدْ بِهِ التَّشَهُّدَ فِي الأَمْرَيْنِ جَمِيعًا، وَإِنَّمَا أَرَادَ الْقِيَامَ الَّذِي هُوَ فَرْضُ الصَّلاةِ أَنْ يُؤْتَى بِهِ كَمَا يَأْتِي الإِمَامُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ (رکوع سے سر) کو اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے، تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھو، جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقتدیوں کے لیے حکم کو پختہ کر دینا کہ جب ان کا امام کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں اور جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں، اس بات کا سب سے بڑا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں احکام میں تشہد مراد نہیں لیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیام مراد لیا ہے جو نماز میں فرض ہے کہ آدمی اسے اسی طرح بجا لائے گا جس طرح امام اسے ادا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 722، 734، 780، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 409، ومالك فى (الموطأ) برقم: 289، وابن الجارود فى "المنتقى"، 213، 352، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1804، 1907، 1909، 1911، 2107، 2115، 4556، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 603، 936، 2757، والترمذي فى (جامعه) برقم: 250، 267، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3، 846، 851، 852، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1243، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7265» «رقم طبعة با وزير 2112»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق، وتقدم (2104). تنبيه!! رقم (2104) = (2107) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم، أبو يونس: اسمه سليم بن جبير وهو مولى أبي هريرة.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2115 in Urdu
سليم بن جبير الدوسي ← أبو هريرة الدوسي