صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
646. باب فرض متابعة الإمام - ذكر استحقاق الإمامة بالازدياد من حفظ القرآن على القوم وإن كان فيهم من هو أحسب وأشرف منه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ امامت کا استحقاق اس شخص کو ہے جو لوگوں سے زیادہ قرآن حفظ کرتا ہو، چاہے اس میں کوئی اس سے زیادہ حسب و نسب والا ہو
حدیث نمبر: 2126
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَاذَا مَعَكُمْ مِنَ الْقُرْآنِ؟". فَاسْتَقْرَأَهُمْ حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ:" مَاذَا مَعَكَ يَا فُلانُ؟". قَالَ مَعِي كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ. قَالَ:" مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَفِهِمْ، وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلا خَشْيَةَ أَنْ لا أَقُومَ بِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ عَلَى كُلِّ مَكَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَرْقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ افراد تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تلاوت سنی یہاں تک کہ آپ ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ان میں سب سے کم سن تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے فلاں تمہیں کتنا قرآن آتا ہے۔ اس نے جواب دیا: مجھے فلاں اور فلاں سورۃ اور سورۃ البقرہ بھی آتی ہے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ آتی ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ تم ان لوگوں کے امیر ہو، تو اس گروہ کے معزز افراد میں سے ایک آدمی نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس میں یہ، یہ خوبی ہے۔ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں نے قرآن کا علم صرف اس لیے حاصل نہیں کیا، مجھے یہ اندیشہ تھا، میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کروں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم قرآن کا علم حاصل کرو اور اس کی تلاوت کرو اور سو بھی جایا کرو جو شخص قرآن کا علم حاصل کر کے اس کی تلاوت کرتا ہے اسے نوافل میں ادا کرتا ہے۔ اس کی مثال ایک ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو۔ اس کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی ہو اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کر کے سویا رہتا ہے، لیکن وہ قرآن اس کے ذہن میں ہوتا ہے اس کی مثال ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ بند ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2123»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 208 - 209)، «التعليق على ابن خزيمة» (3/ 5 / 1509)، «المشكاة» (2143 / التحقيق الثاني)، «الضعيفة» (6483).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
عطاء مولى أبي أحمد أو ابن أبي أحمد: لم يوثقه غير المؤلف، ولم يرو عنه غير سعيد المقبري، وقال الإمام الذهبي في «الميزان» و «المغني»: لا يعرف، وباقي رجاله رجال الشيخين غير عبد الحميد بن جعفر، فهو من رجال مسلم وحده، أبو عمار: هو الحسين بن حريث.
الرواة الحديث:
عطاء مولى أبي أحمد بن جحش ← أبو هريرة الدوسي