صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
682. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الأمر بتسوية الصفوف وإقامتها عند القيام إلى الصلاة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ نماز کے لیے کھڑے ہونے پر صفوں کو برابر اور قائم کیا جائے
حدیث نمبر: 2167
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَنَّ الأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي صَلاتِهِ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ؟. فَلَمَّا قَضَى الأَشْعَرِيُّ صَلاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا كَذَا؟. فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتُهَا. قَالَ: وَاللَّهِ مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ خِفْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلا الْخَيْرَ. فَقَالَ الأَشْعَرِيُّ : أَمَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلاتِكُمْ؟، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا صَلاتَنَا، فَقَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: وَلا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمُ اللَّهُ، ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ فَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" .
حطان بن عبدالله رقاشی بیان کرتے ہیں: اشعری نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی جب وہ نماز میں بیٹھے تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: نماز کو نیکی اور زکوۃ کے ہمراہ قرار دیا گیا ہے، جب اشعری نے اپنی نماز مکمل کی تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: فلاں بات تم میں سے کس نے کہی ہے، تو لوگ خاموش رہے۔ اشعری نے کہا: اے حطان شاید تم نے یہ بات کہی ہے۔ حطان نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ بات نہیں کہی لیکن مجھے اندیشہ تھا، آپ اس حوالے سے مجھے مجرم قرار دیں گے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: میں نے یہ بات کہی ہے۔ میں نے اس کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا تو اشعری نے کہا: کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے؟ تمہیں اپنی نماز کے درمیان کیا پڑھنا چاہئے۔ بے شک اللہ کے رسول نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے سنت کی تعلیم دی اور آپ نے نماز کا طریقہ ہمارے سامنے بیان کیا۔ یان کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جب نماز قائم کی جائے، تو تم اپنی صفوں کو درست کرو اور تم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کرے جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ والاالضالین کہے، تو تم آمین کہواللہ تعالیٰ تمہاری دعا کو قبول کرے گا پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں جاؤ۔ امام کو تم سے پہلے رکوع میں جانا چاہئے اور تم سے پہلے (رکوع سے سر کو) اٹھانا چاہئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ یوں ہو جائے گا، جب وہ «سمع اللہ لمن حمدہ» پڑھے تو تم لوگ «اللهم ربنا ولك الحمد» پڑھو کیونکہاللہ تعالیٰ نے نبی کی زبانی یہ بات ارشاد فرمائی ہے، پھر جو شخص اس کی حمد بیان کرتا ہےاللہ تعالیٰ اس کو سن لیتا ہے، پھر جب امام تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جاؤ امام کو تم سے پہلے سجدے میں جانا چاہئے اور تم سے پہلے اٹھنا چاہیئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ یوں ہو جائے گا، پھر جب قعدہ آئے، تو تم یہ پڑھو۔ ”تمام زبانی اور جسمانی عبادتیںاللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہواللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اوراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2164»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (893)، «الإرواء» (332).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح، يحيى: هو ابن سعيد القطان، وهشام: هو ابن عبد الله الدستوائي.
الرواة الحديث:
حطان بن عبد الله البصري ← عبد الله بن قيس الأشعري