صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
86. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الخير الفاضل من أهل العلم قد يخفى عليه من العلم بعض ما يدركه من هو فوقه فيه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ علم کے بڑے فاضل شخص پر بھی بعض اوقات وہ بات مخفی رہ سکتی ہے جو اس سے بڑے عالم کو معلوم ہو۔
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ لأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے اور عربوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کفر کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں کے ساتھ کیسے جنگ کریں گے؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ نہیں کہہ دیتے، جو شخص یہ کہہ دے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ وہ اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے محفوظ کر لے گا، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور اس شخص کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں ایسے شخص کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا، جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ بے شک زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کوئی ایسی رسی دینے سے انکار کر دیں، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں ان کے اس انکار کرنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اندازہ لگا لیا کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کے حوالے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو شرحِ صدر عطا کیا ہے، اور مجھے یہ پتہ چل گیا کہ یہ موقف درست ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1399، 1456، 6924، 7284، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 20، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 217، 216، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم:، 3091، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1556، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 118، 245»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر ما قبله: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 217 in Urdu
أبو هريرة الدوسي ← عمر بن الخطاب العدوي