صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
696. باب فرض متابعة الإمام - ذكر إباحة تأخير الأحداث عن الصف الأول عند حضور أولي الأحلام والنهى
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ بالغ اور عقلمند افراد کی موجودگی میں نابالغوں کو پہلی صف سے پیچھے رکھا جائے
حدیث نمبر: 2181
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا بِالْمَدِينَةِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ قَائِمٌ أُصَلِّي، فَجَذَبَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَذْبَةً، فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي، فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلاتِي، فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ:" يَابْنَ أَخِي، لا يَسُؤْكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، أَنْ نَلِيَهُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ"، وَقَالَ: هَلَكَ أَهْلُ الْعَهْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّوا. قَالَ: قُلْتُ: مَنْ يَعْنِي بِهَذَا؟ قَالَ: الأُمَرَاءَ" .
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں ایک مسجد میں پہلی صف میں موجود تھا اور کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا۔ میرے پیچھے سے موجود ایک شخص نے مجھے کھینچا اور مجھے ایک طرف ہٹا کر میری جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ اللہ کی قسم! مجھے اپنی نماز کا خیال ہی نہیں رہا۔ پھر جب اس نے نماز مکمل کی تو وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے!اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ برا نہ کرے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمارے ساتھ عہد ہے ہم آپ کے (یعنی امام کے قریب) کھڑے ہوں۔ پھر انہوں نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور ارشاد فرمایا: عہد والے لوگ رب کعبہ کی قسم ہلاکت کا شکار ہو گئے۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! ان لوگوں پر افسوس نہیں ہے۔ افسوس ان لوگوں پر ہے جنہوں نے انہیں گمراہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اس سے مراد کون لوگ ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: حکمران۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2181]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2178»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (1116).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، محمد بن عمر: أخرج له أصحاب السنن وهو ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين غير يوسف بن يعقوب السدوسي، فإنه من رجال البخاري، أبو مجلز: هو لاحق بن حميد السدوسي.
الرواة الحديث:
قيس بن عباد القيسي ← أبي بن كعب الأنصاري