صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
719. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر أوهم بعض أئمتنا أن العجوز في هذه الصلاة لم تكن منفردة وكان معها امرأة أخرى
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بعض ائمہ کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اس نماز میں بوڑھی عورت تنہا نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ ایک اور عورت تھی
حدیث نمبر: 2206
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُخْتَارِ يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُ: " فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ، وَأُمَّهُ وَخَالَتَهُ خَلْفَهُمَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ جَعَلَ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ خَبَرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ خَبَرًا مُخْتَصَرًا، وَخَبَرَ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ هَذَا مُتَقَصًّى لَهُ، وَزَعَمَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَ مَعَهَا مِثْلُهَا، خَالَةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا كَذَلِكَ، لأَنَّهُمَا صَلاتَانِ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ان کی خالہ موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کھڑے ہو گئے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور خالہ ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے بعض ائمہ نے اسحاق بن ابوطلحہ کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کو مختصر روایت قرار دیا ہے اور موسیٰ بن انس کی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے، وہ اس بات کے قائل ہیں کہ اس موقع پر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ بھی موجود تھیں، لیکن ہمارے نزدیک ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ دو مختلف نمازیں ہیں جو مختلف موقعوں پر ادا کی گئیں، یہ ایک ہی نماز کا واقعہ نہیں ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2206]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1982، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 660، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1538، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 990، 2206، 2207، 7186، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 801، وأبو داود فى (سننه) برقم: 608، 609، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 975، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12235» «رقم طبعة با وزير 2203»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (622): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2206 in Urdu
موسى بن أنس الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري