صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
759. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر يحتج به من جهل صناعة الحديث وزعم أنه منسوخ نسخه نسخ الكلام في الصلاة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے حدیث کی صنعت سے ناواقف نے دلیل کے طور پر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اسے نماز میں کلام کے منسوخ ہونے نے منسوخ کیا
حدیث نمبر: 2249
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ مِنَ اثْنَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الْعَشِيِّ، فَقَامَ إِلَيْهِ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ،" فَأَتَمَّ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاةِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ كَانَتْ حَيْثُ كَانَ الْكَلامُ مُبَاحًا فِي الصَّلاةِ، ثُمَّ نُسِخَ هَذَا الْخَبَرُ بِتَحْرِيمِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِمَكَّةَ عِنْدَ رُجُوعِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلاثِ سِنِينَ، وَرَاوِي هَذَا الْخَبَرِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ سَنَةَ خَيْبَرَ سَنَةَ سَبْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ، عَلَى أَنَّ قِصَّةَ ذِي الْيَدَيْنِ كَانَ بَعْدَ نَسْخِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ بِعَشْرِ سِنِينَ سَوَاءٌ، فَكَيْفَ يَكُونُ الْخَبَرُ الْمُتَأَخِّرِ مَنْسُوخًا بِالْخَبَرِ الْمُتَقَدِّمِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا، تو سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا۔ ایسا ہی ہے، جس طرح ذوالیدین کہہ رہا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے ایک عالم کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ یہ وہ نماز تھی جس میں نماز کے دوران کلام کرنا مباح تھا۔ پھر اس روایت کو منسوخ کر دیا گیا۔ جو نماز کے دوران کلام کرنے کے حرام ہونے والی روایت کے ذریعے منسوخ ہوا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نماز کے دوران کلام کرنا مکہ میں منسوخ ہوا تھا۔ اس وقت جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے واپس آئے تھے۔ اور یہ بات ہجرت سے تین سال پہلے کی ہے۔ جبکہ اس روایت کو نقل کرنے والے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سن سات ہجری میں غزوہ خیبر کے سال میں اسلام قبول کیا تھا۔ جیسا کہ میں یہ بات پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کا واقعہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کے دس سال بعد پیش آیا تھا۔ تو بعد والی روایت پہلی والی روایت کے ذریعے کیسے منسوخ ہو سکتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2249]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2246»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 130)، «الروض النضير» (1097) «صحيح أبي داود» (923).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← أيوب السختياني | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب أحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة | |
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر عمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي | ثقة |
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي