صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
758. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن الكلام الذي زجر عنه في الصلاة إنما هو مخاطبة الآدميين وكلام بعضهم بعضا دون ما يخاطب العبد ربه في صلاته
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ نماز میں جس کلام سے منع کیا گیا وہ انسانوں سے مخاطبت اور آپس میں بات چیت ہے، نہ کہ بندے کا اپنے رب سے اپنی نماز میں کلام
حدیث نمبر: 2248
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَأَبُو خَلِيفَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَجَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ، وَإِنَّ رِجَالا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلا يَضُرُّهُمْ" . قَالَ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ، قَالَ:" فَلا تَأْتُوهُمْ" . قَالَ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ، قَالَ:" كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". قَالَ: قَالَ: وَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لِكَيْ أَسْكُتَ سَكَتُّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ قَبْلَهُ، وَلا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي، وَلا كَهَرَنِي، وَلا شَتَمَنِي، وَلَكِنْ قَالَ:" إِنَّ صَلاتَنَا هَذِهِ لا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هِيَ التَّكْبِيرُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَتِلاوَةُ الْقُرْآنِ" .
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ دور نہیں ہیں پھراللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں۔ یہ انہیں کوئی نقصان نہیں دیتی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں (یعنی علم رمل کا عمل کرتے ہیں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگایا کرتے تھے، تو (ہمارے زمانے میں) جس شخص کی لکیر اس کے موافق ہو (اس کی بات درست ثابت ہوتی ہے) راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا تھا۔ حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آ گئی تو میں نے ان سے کہا:اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے تو لوگوں نے مجھے گھور کے دیکھا میں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم لوگ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو، تو لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانو پر مارے جب میں نے انہیں دیکھا، وہ لوگ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو میں خاموش ہو گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے اچھا معلم اور کوئی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے مارا نہ جھڑکا نہ برا کہا: بلکہ یہ ارشاد فرمایا: ”ہماری اس نماز میں لوگوں کے کلام کی مانند بات چیت کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ تکبیر تسبیح اور قرآن کی تلاوت (پر مشتمل ہوتی ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2248]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2245»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، ابن خزيمة: هو محمد بن إسحاق، وأبو خليفة: هو الفضل بن الحباب، ويحيى القطان: هو يحيى بن سعيد بن فروخ، وحجاج الصواف: اسمه حجاج بن أبي عثمان الصواف، وانظر ما قبله.
الرواة الحديث:
عطاء بن يسار الهلالي ← معاوية بن الحكم السلمي