🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
761. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأخبار المصرحة بأن أبا هريرة شهد هذه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أنه حكاهما كما توهم من جهل صناعة الحديث حيث لم ينعم النظر في متون الأخبار ولا تفقه في صحيح الآثار
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - ان خبروں کا ذکر جو واضح کرتی ہیں کہ ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس نماز میں شرکت کی، نہ کہ اسے دوسروں سے نقل کیا جیسا کہ حدیث کی صنعت سے ناواقف نے وہم کیا کیونکہ اس نے خبروں کے متون پر غور نہیں کیا اور نہ ہی صحیح آثار میں تفہیم حاصل کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2256
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتْيِ الْعَشِيِّ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: سَمَّاهَا لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَنَسِيتُ أَنَا، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَاتَّكَأَ عَلَى خَشَبَةٍ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، قَالَ: وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، قَالَ النَّضْرُ: يَعْنِي أَوَائِلَ النَّاسِ، فَقَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ؟! وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدِهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ، وَلَمْ أَنَسَ"، فَقَالَ لِلْقَوْمِ:" أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ،" فَصَلَّى مَا كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَهُ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ" ، قَالَ: فَرُبَّمَا سَأَلُوا مُحَمَّدًا: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ:" ثُمَّ سَلَّمَ"، لَفْظُ الْخَبَرِ لِلنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی ایک نماز پڑھائی۔ ابن سیرین نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے (اس نماز کا) نام لیا تھا لیکن میں اسے بھول گیا ہوں (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں پر رکھا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیا۔ آپ نے غضب کے عالم میں اس لکڑی کے ساتھ ٹیک لگائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: جلد باز لوگ (مسجد سے) نکل گئے۔ وہ یہ کہہ رہے تھے۔ نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے لیکن انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ حاضرین میں ایک صاحب موجود تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے۔ انہیں ذوالیدین کہا: جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ تو نماز مختصر ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے دریافت کیا: کیا اسی طرح ہے، جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز ادا کی جو آپ نے چھوڑ دی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں جتنا یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنے سر کو اٹھایا اور تکبیر کہی۔ پھر آپ نے تکبیر کہی اور اسی کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی کہتے ہیں: (ہمارے استاد سے) بعض لوگ یہ کہتے تھے (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) پھر انہوں نے سلام پھیر دیا، تو وہ یہ فرماتے تھے۔ مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی گئی ہے، انہوں نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ روایت کے یہ الفاظ نضر بن شمیل کے ابن عون کے حوالے سے نقل کردہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2256]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2253»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه الحنظلي.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← عبد الله بن عون المزني
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة