صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
96. باب فرض الإيمان - ذكر إعطاء الله جل وعلا الأجر مرتين لمن أسلم من أهل الكتاب-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اہل کتاب میں سے جو اسلام لاتا ہے اسے دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 227
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قَبْلُنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، يَقُولُونَ: عَتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، ثُمَّ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ، وَحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِ لِمَوْلاهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ، فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ" قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فِيمَا هُوَ دُونَهُ.
صالح ہمدانی، امام شعبی کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: میں نے خراسان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ امام شعبی کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس بات کے قائل ہیں، جب کوئی شخص اپنی کنیز کو آزاد کر کے پھر اس کے ساتھ شادی کرے، تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو اپنے قربانی کے جانور پر سوار ہو جاتا ہے، تو امام شعبی نے بتایا: ابوبردہ نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تین لوگ ایسے ہیں، جنہیں دگنا اجر عطا کیا جائے گا۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لائے، اور پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لے آئے اور آپ کی پیروی کرے، تو اسے دگنا اجر ملے گا۔ ایک وہ غلام جواللہ تعالیٰ کا اپنے ذمے حق ادا کرے اور اپنے ذمے اپنے آقا کا بھی حق ادا کرے اسے بھی دگنا اجر ملے گا۔ اور ایک وہ شخص جس کی کوئی کنیز ہو، وہ اسے اچھی خوراک فراہم کرے۔ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، پھر اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کرے، تو اس کو دگنا اجر ملے گا۔“ امام شعبی نے خراسان کے رہنے والے اس شخص سے کہا: تم کسی معاوضے کے بغیر اس حدیث کو حاصل کر لو، ورنہ پہلے اس سے کم (مضمون والی) روایت کے لئے مدینہ منورہ تک سفر کر کے جانا پڑتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 227]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1153): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، وهشيم قد صرح بالتحديث عند سعيد بن منصور والطحاوي. وصالح: هو صالح بن صالح بن حي، ويقال: ابن صالح بن مسلم بن حي، وأبو بردة: هو ابن موسى الأشعري، قيل: اسمه عامر، وقيل: الحارث.
الرواة الحديث:
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري