صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
806. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر ما يعمل المرء عند صلاته إذا كان معه ثوب واحد غير واسع
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں کیا کرے اگر اس کے پاس ایک غیر کشادہ کپڑا ہو
حدیث نمبر: 2305
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ أَتَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ جَابِرٌ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ اشْتَمَلْتُ بِهِ، وَصَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" مَا السُّرَى يَا جَابِرُ؟" فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ، مَا هَذَا الاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ؟" فَقُلْتُ: كَانَ ثَوْبًا وَاحِدًا ضَيِّقًا، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ" .
سعید بن حارث بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔ ایک رات میں کسی معاملے کے بارے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، میرے جسم پر ایک کپڑا تھا جسے میں نے اشتمال کے طور پر لپیٹا ہوا تھا۔ میں آپ کے پہلو میں کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں کیا کام ہے؟“ میں نے آپ کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! یہ تم نے اشتمال کے طور پر کس طرح کپڑا پہنا ہوا ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے عرض کی: یہ ایک تنگ کپڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم نماز ادا کرنے لگو اور تمہارے جسم پر ایک کپڑا ہو، تو اگر تو وہ کشادہ ہو، تو تم اسے التحاف کے طور پر پہن لو اگر وہ تنگ ہو، تو تم اس کا تہبند باندھ لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2305]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 352، 353، 361، 370، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 518، وابن الجارود فى "المنتقى"، 191، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 762، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2197، 2265، 2266، 2299، 2300، 2305، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 485، 633، 634، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 974، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14336» «رقم طبعة با وزير 2302»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (644): م، خ مختصرا.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، فليح- وهو ابن سليمان الخزاعي- فيه كلام، مع أنه من رجال الشيخين، وباقي رجال السند ثقات على شرط الصحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2305 in Urdu
سعيد بن الحارث الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري