صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
807. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الإخبار عن جواز صلاة المرء في الثوب الواحد عند العدم
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے ایک کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے جب دوسرا کپڑا نہ ہو
حدیث نمبر: 2306
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلُ ، وَأَيُّوبُ ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟" . فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَوَسِّعُوا، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، فَصَلَّى الرَّجُلُ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ" ، قَالَ هِشَامٌ: نَحْسَبُهُ قَالَ:" وَتُبَّانٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: جباللہ تعالیٰ نے گنجائش عطا کر دی ہے، تو تم لوگ گنجائش کو اختیار کرو۔ آدمی اپنے کپڑوں کو جمع کر لے (یعنی دو مختلف طرح کی چیزیں پہنے) آدمی تہبند اور چادر میں، یا تہبند اور قمیض میں، یا تہبند اور قباء میں نماز ادا کرے یا شلوار اور قباء میں نماز ادا کرے یا شلوار اور قمیض میں، یا شلوار اور قباء میں نماز ادا کرے۔ ہشام نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں پاجامے میں (نماز ادا کرے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2302/م»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» (5746): خ. *قال الناشر: سقط هذا الحديث من «الأصل»، وهو مُكرّر سندا ومتنا برقم (2295)، إِلاَّ أَنَّ الباب ورقم «التقاسيم والأنواع» مختلفان. تنبيه!! رقم (2295) = (2298) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وهو مكرر (2298).
الرواة الحديث:
أبو هريرة الدوسي ← عمر بن الخطاب العدوي