صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
860. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر وصف استتار المصلي في صلاته
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ نمازی اپنی نماز میں کیسے پردہ کرے
حدیث نمبر: 2361
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُلْقِ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ عَصًا، فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لا يَضُرُّهُ مَا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ هَذَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، رَوَى عَنْهُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، وَابْنُهُ أَبُو مُحَمَّدٍ، يَرْوِي عَنْ جَدِّهِ، وَلَيْسَ هَذَا بِعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيِّ، ذَلِكَ لَهُ صُحْبَةٌ، وَهَذَا عَمْرُو بْنُ حُرَيْثِ بْنِ عُمَارَةَ، مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، سَمِعَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ جَدَّهُ حُرَيْثَ بْنَ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”* جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو اسے اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لینی چاہیئے اگر اسے کوئی چیز نہیں ملتی، تو اپنا عصاء رکھ لے اگر عصاء بھی نہیں ملتا تو پھر ایک لکیر کھینچ لے اس کے دوسری طرف سے گزرنے والا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن حریث نامی یہ راوی اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والا بزرگ ہے اس کے حوالے سے سعید مقبری نے اور اس کے بیٹے ابومحمود نے روایات نقل کی ہیں اس نے اپنے دادا کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں اور یہ عمرو بن حریث مخزومی نہیں ہے کیونکہ وہ صحابی ہیں یہ عمرو بن حریث بن عمارہ ہے جس کا تعلق بنو عذرہ سے ہے۔ ابومحمد عمرو بن حریث نے اپنے دادا حریث بن عمارہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2361]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2355»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (107).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف لاضطرابه، ولجهالة أبي محمد بن عمرو بن حُريث وجده، وقد ضعف الحديث سفيان بن عيينة والشافعي والبغوي وغيرهما، وقال ابن قدامة في «المحرر»: وهو حديث مضطرب الإسناد.
الرواة الحديث:
حريث بن عمار العذري ← أبو هريرة الدوسي