🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
902. باب إعادة الصلاة - ذكر الأمر لمن أخر إقامة الصلاة عن وقتها أن يصلي وحده ثم يصلي معهم ثانيا إذا كانت في الوقت
نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص اپنی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرے وہ تنہا پڑھے پھر اگر وقت میں ہو تو دوبارہ ان کے ساتھ پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2406
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلاةَ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ بْنِ زِيَادٍ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، وَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: " صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلا تَقُلْ: إِنِّي صَلَّيْتُ فَلا أُصَلِّي" .
ابوالعالیہ براء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ابن زیاد نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو عبداللہ بن صامت میرے پاس تشریف لائے میں نے ان کے لیے کرسی رکھی وہ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کے اس عمل کا تذکرہ کیا، تو وہ اپنے ہونٹ چبانے لگے، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ میرے زانو پر مارا اور بولے: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا، تو انہوں نے میرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے، پھر انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس طرح کی صورت حال میں) تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو اگر تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز ملے، تو تم اسے بھی ادا کر لو تم یہ نہ کہو، میں نماز ادا کر چکا ہوں اس لیے اب نہیں پڑھوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2406]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2399»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (483)، «التعليق على ابن خزيمة» (1637).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، عمران بن موسى القزاز: ثقة، ومن فوقه ثقات على شرط مسلم، - عبد الوارث: هو ابن سعيد العنبري، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني، وأبو العالية البرَّاء، بالتشديد: نسبة إلى برية النَّبل، واختلف في اسمه فقيل: زياد وقيل: كلثوم، وقيل: أذينة، وقيل: ابن أذينة.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥زياد بن فيروز البراء، أبو العالية
Newزياد بن فيروز البراء ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← زياد بن فيروز البراء
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← أيوب السختياني
ثقة ثبت
👤←👥عمران بن موسى الليثي، أبو عمرو
Newعمران بن موسى الليثي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة
👤←👥ابن خزيمة السلمي، أبو بكر
Newابن خزيمة السلمي ← عمران بن موسى الليثي
ثقة حجة