صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
960. باب النوافل - ذكر ما يستحب للمرء أن يخفف ركعتي الفجر إذا أرادهما
نفل نمازوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اگر وہ فجر کی دو رکعتیں پڑھنا چاہے تو انہیں ہلکا رکھے
حدیث نمبر: 2465
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ خَفَّفْهُمَا حَتَّى يَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهُ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعات سنت ادا کرتے تھے، تو آپ انہیں مختصر پڑھتے تھے یہاں تک کہ میں یہ سوچتی تھی شاید، آپ نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت بھی نہیں کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2465]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2456»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1141)، «صفة الصلاة»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، محمد بن عبد الرحمن: هو ابن سعد بن زرارة الأنصاري، وعمرة: هي بنت عبد الرحمن بن سعد بن زرارة الأنصارية المدنية كانت في حجر عائشة.
الرواة الحديث:
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق