پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
985. باب النوافل - ذكر البيان بأن صلاة المرء النوافل كلها في بيته كان أعظم لأجره
نفل نمازوں کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کی تمام نفلی نمازیں گھر میں پڑھنا اس کے اجر کو بڑھاتا ہے
حدیث نمبر: 2491
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً مِنْ حُصُرٍ فِي رَمَضَانَ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاتِهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ:" قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلا الْمَكْتُوبَةَ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں چٹائی سے بنا ہوا حجرہ بنوا لیا آپ اس میں رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتے تھے آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی جب آپ کو لوگوں کے بارے میں علم ہوا، تو آپ بیٹھنے لگے (یعنی ان کے پاس نماز کے لیے تشریف نہیں لے جاتے تھے) راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا جب میں نے تمہارا طرز عمل دیکھا تھا اے لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز ادا کیا کرو کیونکہ آدمی کی سب سے افضل نماز وہ ہے، جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے البتہ فرض نماز کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2491]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 731، 6113، 7290، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 781، ومالك فى (الموطأ) برقم: 428، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1203، 1204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2491، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1598، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1293، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1044، 1447، والترمذي فى (جامعه) برقم: 450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21983» «رقم طبعة با وزير 2482»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1301): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، سالم أبو النضر: هو سالم بن أبي أمية مولى عمر بن عبيد الله التيمي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2491 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← زيد بن ثابت الأنصاري