یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
997. باب النوافل - ذكر الخبر الدال على أن هذا الرجل لم تفته صلاة أمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يقضيها كما زعم من حرف الخبر عن جهته وتأول له ما وصفت
نفل نمازوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس شخص سے کوئی نماز نہیں چھوٹی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قضاء کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ اس نے خبر کو اس کی سمت سے ہٹایا اور اس کی جو تشریح ہم نے بیان کی
حدیث نمبر: 2504
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَلا تَعُودَنَّ لِمِثْلِ هَذَا"، فَرَكَعَهُمَا ثُمَّ جَلَسَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَعُودَنَّ لِمِثْلِ هَذَا" أَرَادَ الإِبْطَاءَ فِي الْمَجِيءِ إِلَى الْجُمُعَةِ، لا الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ أُمِرَ بِهِمَا، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا خَبَرُ ابْنِ عَجْلانَ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ أَنَّهُ أَمَرَهُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ أَنْ يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَهُمَا.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دو رکعت ادا کر لو اور آئندہ اس طرح کی حرکت نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے دو رکعات ادا کی اور بیٹھ گئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم اس طرح دوبارہ نہ کرنا“ اس سے مراد جمعہ کی طرف آنے میں تاخیر کرنا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان دو رکعت کو دوبارہ ادا کرنے سے منع کیا جا رہا ہے جن کے بارے میں حکم دیا گیا تھا اور اس کے صحیح ہونے کی دلیل ابن عجلان کی نقل کردہ وہ روایت ہے جو اس سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے جمعہ میں انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ اسی طرح دو رکعت ادا کر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2504]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 930، 931، 1166، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 875، وابن الجارود فى "المنتقى"، 322، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1831، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2500، 2501، 2502، 2504، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1394، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1115، 1116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 510،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1112، 1114،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14391، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1257» «رقم طبعة با وزير 2495»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (466 و 2893).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، صرح ابن إسحاق بالتحديث، يعقوب بن إبراهيم: هو ابن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري المدني.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2504 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري