صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1030. فصل في صلاة الضحى - ذكر التسوية في صلاة الضحى بين قيامه وركوعه وسجوده
صلاة الضحی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ چاشت کی نماز میں قیام، رکوع اور سجدے میں تساوی رکھی جائے
حدیث نمبر: 2538
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَتْنِي:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ، فَسُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، لا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ، كُلُّ ذَلِكَ مُتَقَارِبَةٌ" ، قَالَتْ:" فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلا بَعْدُ".
عبید اللہ بن عبد اللہ بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے اس بارے میں تحقیق کی اور مجھے اس بات کی بڑی جستجو تھی کہ مجھے کوئی ایسا شخص ملے جو مجھے اس بارے میں بتائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز ادا کی ہے، تو مجھے صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا ملیں جنہوں نے مجھے اس بارے میں بتایا، انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن، دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ کے پردے کے لیے کپڑا لٹکا دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر آٹھ رکعات ادا کیں، میں اندازہ نہیں کر سکتی کہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع زیادہ طویل تھا یا سجدہ زیادہ طویل تھا، یہ سب ایک دوسرے کے قریب قریب تھے؛ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت میں نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 280، 357، 1103، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 336، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1131، 1132، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 237، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1187، 1188، 1189، 2537، 2538، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5246، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1290، 1291، 2763، والترمذي فى (جامعه) برقم: 474، 1579 م، 2734، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 465، 614، 1323، 1379، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27528» «رقم طبعة با وزير 2529»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: ق، ومضى نحوه (1185). تنبيه!! رقم (1185) = (1188) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2538 in Urdu
عبد الله بن الحارث الهاشمي ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية