صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1035. فصل في التراويح - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم ولكني خشيت أن تفرض عليكم فتعجزوا عنها أراد بذلك قيام الليل
تراویح کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "لیکن مجھے ڈر تھا کہ یہ تم پر فرض کر دی جائے اور تم اس سے عاجز ہو جاؤ" سے مراد رات کا قیام ہے
حدیث نمبر: 2544
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّى، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَذَاكَرُونَ ذَلِكَ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ: الصَّلاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کے وقت تشریف لے گئے۔ آپ نے مسجد میں نماز ادا کی سب لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو پہلے سے زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی تشریف لے گئے۔ آپ نے نماز ادا کی لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اگلی رات لوگوں نے اس بات کا تذکرہ کیا، تو تیسری رات تعداد زیادہ چکی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے انہیں پڑھائی لوگوں نے آپ کے پیچھے اقتداء میں نماز ادا کی جب چوتھی رات آئی تو مسجد مکمل بھر چکی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے کچھ لوگوں نے عرض کرنا شروع کیا: نماز (کے لیے تشریف لے آئیں) لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے یہاں تک کہ آپ فجر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ نے فجر کی نماز ادا کر لی، تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”گزشتہ رات تمہارا معاملہ مجھ سے مخفی نہیں تھا مجھے یہ اندیشہ ہوا تم پر رات کی نماز فرض کر دی جائے گی اور تم اس سے عاجز آ جاؤ گے (یعنی اسے ادا نہیں کر پاؤ گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2544]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2535»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق