صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1069. فصل في قيام الليل - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم المتهجد بالقرآن الذي آتاه الله والنائم عليه لنيله بما مثل له
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے ساتھ تہجد کرنے والے کی مثال اس شخص سے دی جو اللہ نے اسے دیا اور اس پر سو گیا، اس کی مثال کے مطابق اسے حاصل کر لیتا ہے
حدیث نمبر: 2578
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَاذَا مَعَكُمْ مِنَ الْقُرْآنِ؟" فَاسْتَقْرَأَهُمْ، حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ:" مَاذَا مَعَكَ يَا فُلانُ؟" قَالَ: مَعِي كَذَا وَكَذَا، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ، قَالَ:" مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ أَشْرَفُهُمْ: وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَنَعَنِي أَنْ لا أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلا خَشْيَةَ أَنْ لا أَقُومَ بِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا تَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ لوگ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے قرأت کے بارے میں دریافت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا گزر ان میں سے ایک ایسے شخص پر ہوا جو ان میں سب سے کم سن تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے فلاں تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ اس نے عرض کی: مجھے فلاں، فلاں سورتیں اور سورۃ بقرہ بھی آتی ہے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہیں سورۃ بقرہ آتی ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ تم ہی ان لوگوں کے امیر ہو، تو ایک صاحب جو ان میں بڑے معزز تھے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس میں یہ، یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں میں نے قرآن کا علم صرف اس لیے حاصل نہیں کیا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا، میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کر سکوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم قرآن کا علم حاصل کرو اور اس کی تلاوت بھی کرو اور سو بھی جایا کرو جو شخص قرآن کا علم حاصل کرتا ہے اور پھر (نوافل میں) ان کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ایک ایسے مشکیزے کی مانند ہے، جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو اور اس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کر لے اور سو جائے وہ قرآن اس کے ذہن میں ہو، تو اس کی مثال ایسے مشکیزے کی طرح ہے، جس میں مشک موجود ہو لیکن اس کا منہ بند کر دیا گیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2578]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2569»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - مضى (2123). تنبيه!! رقم (2123) = (2126) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح غير عطاء مولى أبي أحمد
الرواة الحديث:
عطاء مولى أبي أحمد بن جحش ← أبو هريرة الدوسي