صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1131. فصل في قيام الليل - ذكر خبر ثان قد يوهم في الظاهر من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي تقدم ذكرنا لها
قیام الليل کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ظاہری طور پر اس شخص کو جو حدیث کی صنعت میں ماہر نہیں، یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں سے متعارض ہے
حدیث نمبر: 2640
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ تَجَوَّزَ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنَامُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ طَهُورُهُ وَسِوَاكُهُ، فَيَقُومُ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي، وَيَتَجَوَّزُ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمُ، جَعَلَ الثَّمَانِ سِتًّا، وَيُوتِرُ بِالسَّابِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ إِذَا زُلْزِلَتْ" ، أَبُو حُرَّةَ وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سعد بن ہشام انصاری بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی (نفل) نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے، تو دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے، پھر آپ سو جاتے تھے آپ کے وضو کا پانی اور آپ کی مسواک آپ کے سرہانے موجود ہوتے تھے، پھر آپ بیدار ہو کے مسواک کرتے تھے، پھر وضو کرتے تھے اور نماز ادا کرتے تھے آپ پہلے دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے، پھر آپ آٹھ رکعات ادا کرتے تھے جن میں تقریباً ایک جتنی تلاوت کرتے تھے آپ نویں رکعت کے ذریعے انہیں طاق کر لیتے تھے، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی آپ کا جسم بھاری ہو گیا تو آپ نے آٹھ رکعات کی جگہ چھ ادا کرنا شروع کر دیں اور ساتویں رکعت کے ذریعے انہیں طاق کر لیتے تھے، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جس میں آپ سورۃ الکفرون اور سورۃ زلزال کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2631»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - هو مكرر (2626). تنبيه!! رقم (2626) = (2635) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥سعد بن هشام الأنصاري سعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← سعد بن هشام الأنصاري | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥واصل بن عبد الرحمن الرقاشي، أبو حرة واصل بن عبد الرحمن الرقاشي ← الحسن البصري | صدوق كان يدلس عن الحسن | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← واصل بن عبد الرحمن الرقاشي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← أبو داود الطيالسي | ثقة حافظ | |
👤←👥ابن خزيمة السلمي، أبو بكر ابن خزيمة السلمي ← محمد بن بشار العبدي | ثقة حجة |
سعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق