صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1135. فصل في قيام الليل - ذكر ما يستحب للمرء إذا فاته تهجده من الليل بسبب من الأسباب أن يصليها بالنهار سواء
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اگر وہ کسی وجہ سے رات کا تہجد چھوڑ دے تو دن میں اسے پڑھ لے
حدیث نمبر: 2644
أَخْبَرَنَا أَبُو فِرَاسٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الأَصَمُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعِيشَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلا أَثْبَتَهُ"، وَقَالَت:" كَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّى بِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" . " وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصُّبْحِ، وَلا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلا رَمَضَانَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل کرتے تھے تو اس کو باقاعدگی سے کیا کرتے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے (نوافل) ادا کیے بغیر سو جاتے یا بیماری کی وجہ سے (انہیں ادا نہ کر پاتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے، میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی اور پورے مہینے میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 2635»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (2633). تنبيه!! وقعت كنيت الراوي «مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الأَصَمُّ» في «طبعة باوزير»، «أَبُو قُرَيش» بدلا من «أَبُو فِرَاسٍ». ملحوظة رقم (2633) = (2642) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2644 in Urdu
سعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق