صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1139. باب قضاء الفوائت - ذكر الخبر الدال على أن صلاة أحد عن أحد غير جائزة
قیام الليل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ کسی کی طرف سے دوسرے کی نماز جائز نہیں
حدیث نمبر: 2648
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ" قَالَ: أَبُو حَاتِمٍ: فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ" دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ لَوْ أَدَّاهَا عَنْهُ غَيْرُهُ لَمْ تُجْزِ عَنْهُ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ"، يُرِيدُ إِلا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَيِّتَ إِذَا مَاتَ وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَدَائِهَا فِي عِلَّتِهِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُعْطَى الْفُقَرَاءَ عَنْ تِلْكَ الصَّلَوَاتِ الْحِنْطَةَ، وَلا غَيْرَهَا مِنْ سَائِرِ الأَطْعِمَةِ وَالأَشْيَاءِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائے، تو جب اسے (نماز) یاد آئے، تو اسے ادا کر لے، اس کا کفارہ صرف یہی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جب اسے (نماز) یاد آئے، تو اسے ادا کر لے، اس کا کفارہ صرف یہی ہے“ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے اس کی نماز کو ادا کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہو گی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ”کیونکہ اس کا کفارہ صرف یہی ہے“ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے (نماز) یاد آ جائے تو خود اس کو ادا کرے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے کچھ نمازیں ہوں جنہیں وہ اپنی بیماری کے دوران ادا نہ کر سکا ہو، تو اب یہ بات جائز نہ ہو گی کہ ان نمازوں کے عوض میں غریبوں کو گندم دے دی جائے، یا اس کے علاوہ دیگر اناج یا کوئی اور چیز دے دی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 597، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 684، وابن الجارود فى "المنتقى"، 265، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 991، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1555، 1556، 2647، 2648، وأبو داود فى (سننه) برقم: 442، والترمذي فى (جامعه) برقم: 178، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1265، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 695، 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12154» «رقم طبعة با وزير 2639»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2648 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري