🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. باب ما جاء في الصفات-
اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيرَةَ وَاسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا سورة النساء آية 58 إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا سورة النساء آية 58: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى إِذْنِهِ، وَأُصْبَعَهُ الدَّعَّاءَ عَلَى عَيْنِهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَرَادَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضْعِهِ أُصْبُعَهُ عَلَى أُذُنِهِ وَعَيْنِهِ تَعْرِيفَ النَّاسِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا لا يَسْمَعُ بِالأُذُنِ الَّتِي لَهَا سِمَاخٌ وَالْتِوَاءٌ، وَلا يُبْصِرُ بِالْعَيْنِ الَّتِي لَهَا أَشْفَارٌ وَحَدَقٌ وَبَيَاضٌ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهَ بِخَلْقِهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ، بَلْ يَسْمَعُ وَيُبْصِرُ بِلا آلَةٍ كَيْفَ يَشَاءُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے اس آیت کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) بے شکاللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ حکم دیتا ہے، تم امانتیں ان کے اہل لوگوں کو ادا کر دو۔ یہ آیت یہاں تک ہے۔ بے شکاللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنا انگوٹھا اپنے کان پر رکھا اور اپنی انگلی جس کے ذریعے نماز کے دوران اشارہ کیا جاتا ہے اسے اپنی آنکھ پر رکھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی انگلی کو اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں پر رکھنے کا مطلب یہ ہے: آپ لوگوں کے سامنے اس بات کو واضح کریں کہاللہ تعالیٰ اس کان کی وجہ سے نہیں سنتا جس میں سوراخ اور موڑ ہوتا ہے۔ اور اس آنکھ کی مدد سے نہیں دیکھتا ہے، جس میں پتلیاں اور ڈیلا اور سفیدی ہوتی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کے ساتھ مشابہ قرار دیا جائے بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر سنتا اور دیکھتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 265]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» تحت حديث (3081).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح. والمقرئ: هو أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المكي.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سليم بن جبير الدوسي، أبو يونس
Newسليم بن جبير الدوسي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥حرملة بن عمران التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن عمران التجيبي ← سليم بن جبير الدوسي
ثقة
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← حرملة بن عمران التجيبي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الله بن يزيد العدوي
ثقة حافظ جليل
👤←👥ابن خزيمة السلمي، أبو بكر
Newابن خزيمة السلمي ← محمد بن يحيى الذهلي
ثقة حجة