صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1162. باب سجود السهو - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن سجدتي السهو يجب أن تكونا في كل الأحوال قبل السلام
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ سجدہ سہو کے دو سجدے ہر حال میں سلام سے پہلے کرنے چاہئیں
حدیث نمبر: 2673
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ خَتَنُ الْمُقْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" أَكَذَلِكَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں (اور سلام پھیر دیا) آپ کی خدمت میں اس بارے میں گزارش کی گئی تو آپ نے دریافت کیا: کیا اسی طرح سے لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھی پھر تشہد پڑھا اور سلام پھیر دیا۔ پھر آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر سلام پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2663»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (933)، «الإرواء» (2/ 126 / 400): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
معاوية بن عمرو البصري ← عمران بن حصين الأزدي