صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1186. باب المسافر - ذكر ما يحمد العبد ربه جل وعلا عند الركوب لسفر يريده
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا کی حمد کرتا ہے جب وہ سفر کے لیے سوار ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2698
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ) إِلَى قَوْلِهِ: (وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 13 - 14) ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا، اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، قَالَ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي" .
علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب ایک جانور لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی، جب وہ اس جانور کی پشت پر سیدھے بیٹھ گئے، تو انہوں نے تین مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا، پھر یہ پڑھا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم اس پر قابو نہیں پا سکتے تھے“ یہ آیت یہاں تک ہے، ”بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ پھر تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا: «سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”(اے اللہ) تو پاک ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، تو میری مغفرت کر دے، گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے“ پھر وہ مسکرا دیے، میں نے دریافت کیا: اے امیر المؤمنین! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا پروردگار اس بندے سے خوش ہوتا ہے، جب وہ یہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! تو میری مغفرت کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا بندہ یہ بات جانتا ہے، میرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2698]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2697، 2698، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2496، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2602، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3446، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10426، وأحمد فى (مسنده) برقم: 764» «رقم طبعة با وزير 2687»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2698 in Urdu
علي بن ربيعة الوالبي ← علي بن أبي طالب الهاشمي