صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1253. باب سجود التلاوة - ذكر العلة التي من أجلها سجد صلى الله عليه وسلم في ص
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ص میں سجدہ کیا
حدیث نمبر: 2766
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَالأَشَجُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ الْعَبَّاسِ : سَجْدَةُ (ص) مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَهَا؟ قَالَ: فَتَلا عَلَيَّ: (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ سورة الأنعام آية 84 حَتَّى بَلَغَ إِلَى قَوْلِهِ: أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90) ، قَالَ:" كَانَ دَاوُدُ سَجَدَ فِيهَا، فَلِذَلِكَ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ سورة ص میں سجدہ تلاوت موجود ہونے کا حکم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے؟ تو انہوں نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی: ﴿اس کی ذریت میں مسلمان داؤد سلیمان اور ایوب ہیں﴾ [سورة الأنعام: 84] ، یہ آیت انہوں نے یہاں تک تلاوت کی: ﴿یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا کی تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو﴾ [سورة الأنعام: 90] ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے اس جگہ پر سجدہ کیا تھا، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی (اس آیت پر) سجدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1069، 3421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 550، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2766، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1409، والترمذي فى (جامعه) برقم: 577، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 889، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2562، والحميدي فى (مسنده) برقم: 483» «رقم طبعة با وزير 2755»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1270)، «المشكاة» (2038).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2766 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي