صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1312. باب صلاة الكسوف
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان -
حدیث نمبر: 2828
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِالصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، أُرِيدَ بِهِ أَحَدُهُمَا، لأَنَّهُمَا لا يَنْكَسِفَانِ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، (آپ نے ارشاد فرمایا ہے:) ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ دونوںاللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان دونوں کو (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن ہو۔ تو بھی نماز ادا کی جائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ جب ان دونوں کو ایک ہی وقت میں گرہن ہو، تو اس وقت نماز ادا کرنے کا حکم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2817»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «جزء الكسوف»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي