صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1321. باب صلاة الكسوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن عند كسوف الشمس أو القمر يكتفى بالدعاء دون الصلاة إذا صلى كسائر الصلوات
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے وقت صرف دعا کافی ہے اگر دیگر نمازوں کی طرح نماز پڑھ لی جائے
حدیث نمبر: 2838
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْكَعَ، ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَجَعَلَ يَتَضَرَّعُ، وَيَبْكِي، وَيَقُولُ: " رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ"، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَيْنِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا انْكَسَفَا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ" . ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ شِئْتُ لَتَعَاطَيْتُ قِطْفًا مِنْ قُطُوفِهَا، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، حَتَّى جَعَلْتُ أَتَّقِيهَا حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرِونَكَ"، قَالَ:" فَرَأَيْتُ فِيهَا الْحَمَيرِيَةَ السَّوْدَاءَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ كَانَتْ حَبَسَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ، فَرَأَيْتُهَا كُلَّمَا أَدْبَرَتْ نُهِشَتْ فِي النَّارِ، وَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَا دَعْدَعٍ، يُدْفَعُ فِي النَّارِ بِقَضِيبَيْنِ ذِي شُعْبَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ، فَرَأَيْتُهُ فِي النَّارِ عَلَى مِحْجَنِهِ مُتَوَكِّئًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ رکوع میں جائیں گے ہی نہیں پھر آپ رکوع میں چلے گئے، تو یوں محسوس ہوا، آپ سر کو اٹھائیں گے ہی نہیں پھر آپ نے سر کو اٹھایا اور گریہ وزاری شروع کی اور رونا شروع کیا آپ یہ فرما رہے تھے۔ ”اے میرے پروردگار کیا تم نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا، جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا، تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا، جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، تو سورج روشن ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں جب یہ دونوں گرہن ہو جائیں، تو اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو اس کا کوئی گچھا حاصل کر سکتا تھا اور میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اس سے بچنے کی کوشش کی مجھے یہ اندیشہ ہوا، کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے، تو میں نے یہ کہنا شروع کیا، کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا، تو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا، جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا، تو انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا، جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس میں ایک سیاہ فام حمیری عورت کو دیکھا جوبلی کی مالک تھی اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی اور پینے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی، اس نے اسے چھوڑا بھی نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی، تو میں نے اس عورت کو دیکھا، وہ جب بھی آتی تھی اس کے چہرے کو نوچ لیا جاتا تھا میں نے جہنم میں (دعدع قبیلے سے تعلق رکھنے والے) اس شخص کو بھی دیکھا جو اللہ کے رسول کے قربانی کے دو جانوروں کا نگران تھا اسے دو کناروں والی دو ڈنڈیوں کے ذریعے جہنم میں ڈالا جا رہا تھا میں نے لاٹھی والے شخص کو بھی دیکھا میں نے اسے جہنم میں دیکھا، وہ اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2838]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2827»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (1079)، لكن المحفوظ ركوعان في كل ركعة، وأن (أخا بني دعدع): هو صاحب المحجن. استراك على «طبعة باوزير»!! هناك حاشية بعد جملة «لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ» قال فيها الشيخ: ما بين المعقوفين سقط من مطبوعة «دار الكتب العلمية». لكنهم لم يضعوا المعقوفين؟! - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
صحيح
الرواة الحديث:
السائب بن مالك الثقفي ← عبد الله بن عمرو السهمي