صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1361. باب صلاة الخوف - ذكر النوع الرابع من صلاة الخوف
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے چوتھے نوع کا ذکر
حدیث نمبر: 2878
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَسْأَلُهُ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ"، قَالَ: " فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، صَدْعَيْنِ، قَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ، وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، فَرَكَعَ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذْتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي صَلَّتْ مَعَهُ أَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ مَشَوَا الْقَهْقَرَى عَلَى أَدْبَارِهِمْ حَتَّى قَامُوا مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابَلَةَ الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَةً أُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ ثُمَّ كَانَ السَّلامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَقَامَ الْقَوْمُ وَقَدْ شَرَكُوهُ فِي الصَّلاةِ" .
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا مروان بن حکم نے ان سے نماز خوف کے بارے میں دریافت کیا: تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں اس جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل کھڑا ہو گیا ان لوگوں کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ان سب لوگوں نے تکبیر کہی وہ بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور وہ بھی جو دشمن کے مدمقابل کھڑے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو جو گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس والا گروہ بھی سجدے میں چلا گیا، جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل کھڑا رہا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، تو جس گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک رکعت ادا کی تھی انہوں نے اپنا اسلحہ لیا اور ا لٹے قدموں چلتے ہوئے دشمن کے مدمقابل آ کے کھڑے ہو گئے اور وہ گروہ جو دشمن کے مدمقابل کھڑا ہوا تھا وہ آگے آ گیا ان لوگوں نے رکوع کیا، اور سجدہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی حالت میں ہی کھڑے رہے، پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ رکوع کیا ان لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا، آپ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا، پھر وہ گروہ آ گیا جو دشمن کے مدمقابل تھا، پھر انہوں نے رکوع اور سجدہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والے افراد بیٹھے رہے، پھر سلام کا وقت آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ان سب لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا، تو ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2878]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2867»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1129).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← أبو هريرة الدوسي