صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
25. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الإخبار عن الغيرة التي يحبها الله والتي يبغضها-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ غیرت اور ناپسندیدہ غیرت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 295
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَتِيكٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ الِلَّهِ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ الِلَّهِ، فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ الِلَّهِ فَالْغَيْرَةُ فِي اللَّهِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ الِلَّهِ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ اللَّهِ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلاءِ مَا يُحِبُّ الِلَّهِ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ الِلَّهِ، فَأَمَّا الْخُيَلاءُ الَّتِي يُحِبُّ الِلَّهِ أَنْ يَتَخَيَّلَ الْعَبْدُ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَأَنْ يَتَخَيَّلَ عِنْدَ الصَّدَاقَةِ، وَأَمَّا الْخُيَلاءُ الَّتِي يُبْغِضُ الِلَّهِ، فَالْخُيَلاءُ لِغَيْرِ الدِّينِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: ابْنُ عَتِيكٍ هَذَا، هُوَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكِ بْنِ النُّعْمَانِ الأَشْهَلِيُّ، لأَبِيهِ صُحْبَةٌ.
ابن عتیک انصاری اپنے والد کے حوالے سے نبی اکر صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غیرت کی ایک قسم وہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک قسم وہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، جہاں تک اس قسم کا تعلق ہے، جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، تو یہ وہ غیرت ہے، جواللہ تعالیٰ کے بارے میں ہے، اور وہ غیرت جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو یہ وہ غیرت ہے، جواللہ تعالیٰ کی بجائے کسی اور کے لئے ہو، تکبر کا اظہار کرنے والے لوگوں میں کچھ لوگ وہ ہیں، جنہیںاللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور کچھ لوگ وہ ہیں، جنہیںاللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے، جو تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے، تو اس سے مراد وہ بندہ ہے، جو جنگ کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور وہ شخص جو صدقہ کرتے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے۔ اور جہاں تکبر کرنے والے اس شخص کا تعلق ہے، جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے تو اس سے مراد وہ شخص ہے، جو کسی دینی معاملے کی بجائے (دنیا داری کے حوالے سے) تکبر کا اظہار کرتا ہے۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عتیک نامی راوی ابوسفیان بن جابر بن عتیک بن نعمان اشہلی ہیں۔ ان کے والد صحابی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 295]
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عتیک نامی راوی ابوسفیان بن جابر بن عتیک بن نعمان اشہلی ہیں۔ ان کے والد صحابی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 295]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الإرواء» (1999)، «صحيح أبي داود» (2388).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
ابن عتيك هو ابن جابر بن عتيك الأنصاري، قيل: اسمه عبد الرحمن، مجهول، كما ذكر الحافظ في "التقريب"، وأبو جابر بن عتيك الصحأبي، يقال له: جبر أيضاً، وباقي رجال الإسناد ثقات.
الرواة الحديث:
أبو سفيان بن جابر الأنصاري ← جبر بن عتيك الأنصاري