صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
67. باب المريض وما يتعلق به - ذكر ما يستحب للعواد أن يطيبوا قلوب الأعلاء عند عيادتهم إياهم
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر جو عیادت کرنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ بیماروں کے دلوں کو خوش کریں جب وہ ان کی عیادت کریں
حدیث نمبر: 2959
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ، فَقَالَ:" لا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَقَالَ: كَلا، بَلْ حِمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُورِدُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَنَعَمْ إِذًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، اگر اللہ نے چاہا، تو یہ طہارت کے حصول کا ذریعہ ہو گا، تو وہ بولا: جی نہیں بلکہ یہ بخار ہے، جو ایک بوڑھے شخص پر بھڑک رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا دے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ایسا ہی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2948»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الأدب المفرد» (391): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي