صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
68. باب المريض وما يتعلق به - ذكر جواز عيادة المرء أهل الذمة إذا طمع في إسلامهم
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کی جواز کا ذکر کہ آدمی اہل ذمہ کی عیادت کرے اگر اسے ان کے اسلام لانے کی امید ہو
حدیث نمبر: 2960
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، أَنَّ غُلامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرِضَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" اذْهَبُوا بِنَا إِلَيْهِ نَعُودُهُ"، فَأَتَوْهُ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْفَعُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَجَعَلَ الْغُلامُ يَنْظُرُ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: انْظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ أَبُو الْقَاسِمِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ میرے ساتھ اس کی عیادت کرنے کے لیے چلو وہ لوگ اس کے پاس آئے اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم یہ کہہ دو کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن تمہاری شفاعت کروں گا اس لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھنا شروع کیا، تو اس کے باپ نے اس سے کہا: تم اس بات کا جائزہ لو کہ سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کیا کہہ رہے ہیں (یعنی ان کی بات مان لو)، تو اس لڑکے نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر طرح کی حمداللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2949»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 21) «صحيح أبي داود» (2671): خ نحوه، ويأتي برقم (4864). تنبيه!! رقم (4864) = (4884) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري