صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
112. فصل في المحتضر - ذكر ما يؤذن النبي صلى الله عليه وسلم عند حضور الناس الموت
مرنے والے کے قریب شخص کے ساتھ برتاؤ، اس کے لیے تلقین اور اس وقت کے آداب کا بیان۔ - اس بات کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے موت کے وقت کیا اشارہ کرتے تھے
حدیث نمبر: 3006
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نَعْزِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا حُضِرَ الْمَيِّتُ، آذَنَّاهُ،" فَحَضَرَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى يُقْبَضَ"، فَإِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ مَعَهُ، فَرُبَّمَا طَالَ ذَلِكَ مِنْ حَبْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ: وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا لا نُؤْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَحَدٍ حَتَّى يُقْبَضَ، فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ، فَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ مَشَقَّةٌ عَلَيْهِ وَلا حَبْسٌ، قَالَ: فَفَعَلْنَا فَكُنَّا لا نُؤْذِنُهُ إِلا بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ،" فَيَأْتِيهِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ، فَرُبَّمَا انْصَرَفَ عِنْدَ ذَلِكَ، وَرُبَّمَا مَكَثَ حَتَّى يُدْفَنَ الْمَيِّتُ"، قَالَ: وَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حِينًا، ثُمَّ قُلْنَا: وَاللَّهِ لَوْ أَنَّا لا نُحْضِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمَلْنَا إِلَيْهِ جَنَائِزَ مَوْتَانَا حَتَّى" يُصَلِّيَ عَلَيْهَا عِنْدَ بَيْتِهِ"، لَكَانَ ذَلِكَ أَرْفَقَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَيْسَرَ عَلَيْهِ فَفَعَلْنَا ذَلِكَ فَكَانَ الأَمْرُ إِلَى الْيَوْمِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب کسی شخص کا آخری وقت قریب آتا، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دے دیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس تشریف لاتے تھے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے تھے، یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہو جاتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی واپس تشریف لے جایا کرتے تھے بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاصی دیر رکنا پڑتا تھا میں اس حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دشواری کا اندیشہ ہوا، تو کسی نے دوسرے سے کہا:۔ اللہ کی قسم! اب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی شخص کے بارے میں اس وقت تک اطلاع نہیں دیں گے جب تک اس کا انتقال نہیں ہو جاتا جب اس کا انتقال ہو جائے گا، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دیں گے، تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خاصی دیر تک رکنا نہ پڑے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا اس کے بعد ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو متعلقہ شخص کے انتقال کے بعد اطلاع دینے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس تشریف لاتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت واپس تشریف لے جاتے اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے رہتے، یہاں تک کہ میت کو دفن کیا جاتا۔ راوی کہتے ہیں: ہم ایک عرصے تک ایسا ہی کرتے رہے پھر ہم نے سوچا اللہ کی قسم! اب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلوائیں گے بلکہ اپنے مردوں کے جنازے اٹھا کر لے جایا کریں گے، تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے پاس ہی اس کی نماز جنازہ ادا کر لیں یہ چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ آسانی اور سہولت کا باعث ہو گی، تو پھر ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور اس کے بعد آج تک ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3006]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2995»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الأحكام» (87).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات غير أبي يحيى بن سليمان ... . فقد احتج به البخاري وأصحاب السنن
الرواة الحديث:
سعيد بن عبيد الثقفي ← أبو سعيد الخدري