یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
117. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر الإخبار عن وصف العلامة التي يكون بها قبض روح المؤمن
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس علامت کی کیفیت کی اطلاع جو مؤمن کی روح کے قبض ہونے پر ہوتی ہے
حدیث نمبر: 3011
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ دَخَلَ فَرَأَى ابْنًا لَهُ يَرْشَحُ جَبِينُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَمُوتُ الْمُؤْمِنُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ" .
عبداللہ بن بریرہ اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ (گھر میں) داخل ہوئے، تو انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا کہ (موت کے قریب) اس کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کا انتقال پیشانی کے پسینے کے ہمراہ ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3011]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3011، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1337، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1827، والترمذي فى (جامعه) برقم: 982، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1452، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23430» «رقم طبعة با وزير 3000»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (49).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3011 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي