صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
126. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فدعوه أراد به عن ذكر مساوئه دون محاسنه
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "فدعوه" سے مراد اس کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہنا ہے، نہ کہ اس کی خوبیوں کا ذکر
حدیث نمبر: 3020
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِئِهِمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اپنے مرحومین کی اچھی چیزوں کا ذکر کرو اور ان کی برائیوں (کو بیان کرنے) سے باز آ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3020]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3009»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «المشكاة» (1678)، «الروض» (485).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي