صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
127. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر بعض العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس وجہ کا کچھ حصہ کا ذکر جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 3021
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةَ : مَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ؟ قَالُوا: قَدْ مَاتَ، قَالَتْ: فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، فَقَالُوا لَهَا: مَا لَكَ لَعَنْتِيهِ، ثُمّ قُلْتِ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ؟ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ، فَإِنَّهُمْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَاتَتْ عَائِشَةُ سَنَةَ سَبْعٍ وَخَمْسِينَ، وَوُلِدَ مُجَاهِدٌ سَنَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فِي خِلافَةِ عُمَرَ، فَدَلَكَ هَذَا عَلَى أَنَّ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ كَانَ وَاهِمًا فِي قَوْلِهِ ذَلِكَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے دریافت کیا: یزید بن قیس کے ساتھ کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے۔ لوگوں نے بتایا: وہ مر گیا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔ لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے کہ پہلے آپ نے اس پر لعنت کی تھی اور پھر آپ نے یہ کہا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم لوگ مردوں کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اس چیز کی طرف چلے گئے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال 57 ہجری میں ہوا اور مجاہد کی پیدائش سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں 21 ہجری میں ہوئی، تو یہ چیز تمہاری رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی کہ جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ مجاہد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے احادیث کا سماع نہیں کیا، اسے اپنی اس رائے میں وہم ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3021]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1393، 6516، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1935، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2074، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2553، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7286، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26107، والبزار فى (مسنده) برقم:» «رقم طبعة با وزير 3010»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (1/ 437): خ المرفوع فقط.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3021 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق