الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
242. فصل في النياحة ونحوها - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم لم يرد بهذا العدد المحصور الذي ذكرناه نفيا عما وراءه من العدد
نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مخصوص تعداد سے جو ہم نے ذکر کی، اس سے زیادہ کی نفی نہیں کی
حدیث نمبر: 3142
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهَا النَّاسُ: النِّيَاحَةُ، وَالتَّعَايُرُ، أَوِ التَّعَايُرُ فِي الأَنْسَابِ، وَمُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، وَالْعَدْوَى: جَرِبَ بَعِيرٌ فِي مِئَةِ بَعِيرٍ، فَمَنْ أَعْدَى الأَوْلَ؟" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے چار کام ایسے ہیں جنہیں لوگوں نے چھوڑا نہیں ہے نوحہ کرنا، ایک دوسرے کو عار دلانا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نسب کے حوالے سے ایک دوسرے کو عار دلانا اور یہ کہنا کہ فلاں ستارے سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے اور (بیماری کے) متعدی ہونے کا یقین رکھنا ایک سو اونٹوں میں سے ایک اونٹ پہلے خارش زدہ ہوتا ہے، تو پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3142]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3132»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (735). * [عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ] قال الشيخ: هو ابن بُحير الحافظ الثبت، أكثرَ المُصَنِّفُ عنه، وله تَرجَمةٌ في «سير الذهبي» (14/ 405). ومن فوقه ثقاتٌ رجال الشيخين، وهو إسنادٌ عَزِيز، غير إسناد الترمذي المُخَرَّج في «الصحيحة». * [أَبُو عَامِرٍ] قال الشيخ: وهو عبد الملك بن عمرو القَيْسيّ العقدي.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي