صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. باب الصلاة في الكعبة - ذكر خبر ثان يصرح بنفي هذا الفعل الذي ذكرناه
کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ اس عمل کی نفی کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3208
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ، دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، حَتَّى خَرَجَ، فَصَلَّى عِنْدَ الْبَابِ، وَقَالَ:" هَاهُنَا قِبْلَةٌ" فَصَلِّهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ عَوَّلَ أَئِمَّتُنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ وَرِضْوَانُهُ عَلَى الْكَلامِ فِيهِمَا عَلَى النَّفْيِ وَالإِثْبَاتِ، وَزَعَمُوا أَنَّ بِلالا، أَثْبَتَ صَلاةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، يَنْفِيهَا، وَالْحَكَمُ الْمُثْبِتُ لِلشَّيْءِ أَبَدًا، لا لِمَنْ يَنْفِيهِ، وَهَذَا شَيْءٌ يَلْزَمُنَا فِي قِصَّةِ أُحُدٍ فِي نَفْيِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، الصَّلاةَ عَلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ، وَغَسْلَهُمْ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَالأَشْبَهُ عِنْدِي فِي الْفَصْلِ بَيْنَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ بِأَنْ يُجْعَلا فِي فِعْلَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ، فَيُقَالُ: إِنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ مَكَّةَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَصَلَّى فِيهَا عَلَى مَا، رَوَاهُ أَصْحَابُ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ بِلالٍ، وَأُسَامَةِ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْفَتْحِ، كَذَلِكَ قَالَهُ حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَيُجْعَلُ نَفْيُ ابْنِ عَبَّاسٍ صَلاةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا، حَتَّى يَكُونَ فِعْلانِ فِي حَالَتَيْنِ مُتَبَايِنَتَيْنِ، لأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَفَى الصَّلاةَ فِي الْكَعْبَةِ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَعَمَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، وَأَخْبَرَ أَبُو الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْبَيْتِ، وَزَعَمَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَإِنْ حُمِلَ الْخَبَرَانِ عَلَى مَا وَصَفْنَا فِي الْمَوْضِعَيْنِ الْمُتَبَايِنَيْنِ بَطَلَ التَّضَادُّ بَيْنَهُمَا، وَصَحَّ اسْتِعْمَالُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا.
ابن جریج بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے دریافت کیا: کیا آپ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے تم لوگوں کو (خانہ کعبہ کا) طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے تمہیں اس کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا، تو عطاء نے جواب دیا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس کے اندر جانے سے منع نہیں کرتے تھے تاہم میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام گوشوں میں دعا مانگی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اندر نماز ادا نہیں کی تھی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے دروازے کے قریب نماز ادا کر کے یہ ارشاد فرمایا: قبلہ اس طرف ہے تم اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): ان دونوں روایات کی ہماری آئمہ نے یہ تاویل بیان کی ہے کہ ان دونوں میں مذکور کلام کو نفی اور اثبات پر محمول کیا جائے گا ان حضرات نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ادا کرنے کے اثبات کا ذکر کیا ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی نفی کی ہے، تو کسی چیز کو ثابت کرنے کا حکم اسے بدل دیتا ہے، جو اس کی نفی کر رہا ہو۔ اور واقعہ اُحد میں یہ چیز ہم پر لازم ہوتی ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے غزوہ احد کی نماز جنازہ ادا کرنے اور اس دن میں ان حضرات کو غسل دینے کی نفی کی ہے اور میرے نزدیک زیادہ مناسب یہ ہے: ان دونوں روایات میں فصل کیا جائے کہ ان دونوں میں مذکورہ فعل کو دو مختلف صورتوں پر محمول کیا جائے اور یہ بات کہی جائے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تھا۔ اور خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے۔ تو آپ نے اس میں نماز ادا کی تھی۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے اور یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے۔ جس کا ذکر حسان بن عطیہ نے نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا ہے جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا کرنے کی نفی کو اس صورت حال پر محمول کیا جائے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے انہیں اس بارے میں بتایا ہے جبکہ ابوشعثاء نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کی تھی اور وہ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے انہیں اس بارے میں بتایا تھا۔ سو جب اس روایت کو اس صورتحال پر محمول کیا جائے گا جس کا ذکر ہم نے کیا ہے، جو دو مختلف موقعوں کی بات ہے، تو اس صورت میں ان کے درمیان تضاد ختم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کو مخصوص صورتحال پر محمول کیا جا سکے گا۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3208]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3198»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي