صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
55. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الخبر الدال على أن قوله صلى الله عليه وسلم كيتان و " ثلاث كيات " أراد به أن المتوفى كان يسأل الناس إلحافا وتكثرا
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "دو کیات" اور "تین کیات" سے مراد یہ ہے کہ متوفٰی لوگوں سے اصرار اور کثرت سے مانگتا تھا
حدیث نمبر: 3265
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحِيَى الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَسِّمُ ذَهَبًا، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ قَالَ: زِدْنِي، فَزَادَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ وَلَّى مُدْبِرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ، ثُمَّ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ وَلَّى مُدْبِرًا وَقَدْ جَعَلَ فِي ثَوْبِهِ نَارًا إِذَا انْقَلَبَ إِلَى أَهْلِهِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونا تقسیم کر رہے تھے اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عطا کر دیا پھر اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید دیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید عطا کیا ایسا تین مرتبہ ہوا پھر وہ منہ پھیر کر چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے مانگتا ہے میں اسے عطا کر دیتا ہوں وہ پھر مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اسے عطا کر دیتا ہوں ایسا تین مرتبہ ہوتا ہے پھر وہ شخص مڑ کر چلا جاتا ہے، حالانکہ اس نے اپنے کپڑے میں آگ ڈالی ہوئی ہوتی ہے، اس وقت جب وہ اپنے گھر واپس جا رہا ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3254»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 8).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
فضيل بن سليمان كثير الخطأ وباقي السند رجاله ثقات
الرواة الحديث:
سمعان الأسلمي ← أبو سعيد الخدري