صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
150. صدقة التطوع - ذكر البيان بأن اليد المعطية أفضل من اليد السائلة
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ دینے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحِيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاجِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى، وَلِيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ، تَقُولُ امْرَأَتُهُ: أَنْفِقْ عَلَيَّ، وَتَقُولُ أُمُّ وَلَدِهِ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ وَيَقُولُ لَهُ عَبْدُهُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى" عِنْدِي أَنَّ الِيَدَ الْمُتَصَدِّقَةَ أَفْضَلُ مِنَ الِيَدِ السَّائِلَةِ، لا الآخِذَةِ دُونَ السُّؤَالِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ تَكُونَ الِيَدُ الَّتِي أُبِيحَ لَهَا اسْتِعْمَالُ فِعْلٍ بِاسْتِعْمَالِهِ أَحْسَنَ مِنْ آخَرَ فُرِضَ عَلَيْهِ إِتِيَانُ شَيْءٍ، فَأَتَى بِهِ، أَوْ تَقَرَّبَ إِلَى بَارِئِهِ مُتَنَفِّلا فِيهِ، وَرُبَّمَا كَانَ الْمُعْطِي فِي إِتِيَانِهِ ذَلِكَ أَقَلَّ تَحْصِيلا فِي الأَسْبَابِ مِنَ الَّذِي أَتَى بِمَا أُبِيحَ لَهُ، وَرُبَّمَا كَانَ هَذَا الآخِذُ بِمَا أُبِيحَ لَهُ أَفْضَلَ وَأَوْرَعَ مِنَ الَّذِي يُعْطِي، فَلَمَّا اسْتَحَالَ هَذَا عَلَى الإِطْلاقِ دُونَ التَّحْصِيلِ بِالتَّفْضِيلِ، صَحَّ أَنَّ مَعْنَاهُ أَنَّ الْمُتَصَدِّقَ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يَسْأَلُهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے، جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے (یا جسے دینے کے بعد آدمی خوشحال رہے) اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر شخص کو اپنے زیرِ کفالت سے آغاز کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی بیوی کہے گی تم مجھ پر خرچ کرو، اس کی اولاد کہے گی تم مجھے کس کے حوالے کر رہے ہو، اس کا غلام کہے گا مجھے کھانے کے لیے دو پھر مجھ سے کام لینا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔“ میرے نزدیک اس سے مراد یہ ہے: صدقہ دینے والے شخص کا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مانگے بغیر لینے والے سے افضل ہوتا ہے، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ وہ ہاتھ جس کے لیے کسی فعل کے کرنے کو مباح قرار دیا گیا ہو، وہ اس مباح فعل پر عمل کرنے کی وجہ سے اس دوسرے شخص سے کم تر ہو جائے جس پر کسی کام کے کرنے کو فرض قرار دیا گیا ہو اور وہ اسے سرانجام دے، یا وہ دوسرا شخص کسی نفلی کام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا چاہیے۔ بعض اوقات دینے والا شخص اپنے دینے میں کم اسباب اختیار کرتا ہے اس شخص کے مقابلے میں جس کے لیے اسے (لینا) مباح قرار دیا گیا ہے، اور بعض اوقات لینے والا شخص جس کے لیے اس کو مباح قرار دیا گیا ہے وہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور اس شخص سے زیادہ پرہیزگار ہوتا ہے جو دے رہا ہے، تو جب کسی ایک کو افضل قرار دیے بغیر یہ اطلاق ناممکن ہو تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ صدقہ دینے والا شخص اس شخص سے افضل ہے جو اسے مانگتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1426، 1428، 5355، 5356، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1042، وابن الجارود فى "المنتقى"، 812، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2436، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3363، 4243، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2533، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1676، والترمذي فى (جامعه) برقم: 680، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7276» «رقم طبعة با وزير 3352»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح، لكن قوله: «تقول امرأته ... » مدرج من قول أبي هريرة - «الإرواء» (834): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← أبو صالح السمان | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← عاصم بن أبي النجود الأسدي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عبد الواحد بن غياث الصيرفي، أبو بحر عبد الواحد بن غياث الصيرفي ← حماد بن سلمة البصري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥زكريا بن يحيى الساجي، أبو يحيى زكريا بن يحيى الساجي ← عبد الواحد بن غياث الصيرفي | ثقة ثبت إمام |
Sahih Ibn Hibban Hadith 3363 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي