الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
180. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر البيان بأن مسألة المستغني بما عنده إنما هي الاستكثار من جمر جهنم نعوذ بالله منها
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کا بیان کہ مستغنی کا اپنی موجود چیز سے مانگنا جہنم کی آگ سے کثرت مانگنا ہے، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 3394
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبِرْتِيُّ ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنَ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الأَقْرَعَ وَعُيَيْنَةَ سَأَلا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا، وَخَتَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا، فَأَمَّا عُيَيْنَةَ، فَقَالَ: مَا فِيهِ؟ فَقَالَ: فِيهِ الَّذِي أَمَرْتَ بِهِ، فَقَبَّلَهُ وَعَقْدَهُ فِي عِمَامَتِهِ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ، وَأَمَّا الأَقْرَعُ، فَقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَتِهِ، فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ فِي آخِرِ النَّهَارِ، وَهُوَ فِي مَكَانَهِ، فَقَالَ:" أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟"، فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ: " اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، ارْكَبُوهَا صِحَاحًا، وَكُلُوهَا سِمَانًا، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ شَيْئًا وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ:" مَا يُغَدِّيهِ، أَوْ يُعَشِّيهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يُغَدِّيهِ، أَوْ يُعَشِّيهِ"، أَرَادَ بِهِ عَلَى دَائِمِ الأَوْقَاتِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَغْنِيًا بِمَا عِنْدَهُ، أَلا تَرَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ:" لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ"، فَجَعَلَ الْحَدَّ الَّذِي تَحْرُمُ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِهِ هُوَ الْغِنَى عَنِ النَّاسِ، وَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ أَنَّ وَاجِدَ الْغَدَاءِ أَوِ الْعِشَاءِ لَيْسَ مِمَّنِ اسْتَغْنَى عَنْ غَيْرِهِ حَتَّى تَحْرُمَ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، عَلَى أَنَّ الْخِطَابَ وَرَدَ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ صَدَقَةُ الْفَرِيضَةِ دُونَ التَّطَوُّعِ.
سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ اقرع اور عیینہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کے لیے ایک تحریر لکھ دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگا دی اور وہ تحریر ان دونوں کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔ عیینہ نے دریافت کیا: اس میں کیا ہے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اس میں وہ چیز ہے، جس کے بارے میں تمہیں دینے کا حکم دیا گیا ہے اس نے اسے قبول کیا اور اسے اپنے عمامے میں رکھ لیا وہ ان دونوں آدمیوں میں زیادہ سمجھدار تھا، لیکن اقرع نے کہا: کیا میں ایک ایسے صحیفے کو اٹھا لوں جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں کہ اس میں کیا تحریر ہے، یہ تو ایک ایسے صحیفے کی مانند ہو گا جو غلط فہمی کا شکار کر دیتا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے قول کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لائے۔ دن کے ابتدائی حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے تھے جو مسجد کے دروازے کے باہر بٹھایا گیا تھا پھر دن کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے وہ اسی جگہ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا مالک کہاں ہے اسے تلاش کیا گیا، لیکن وہ نہیں ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ تندرست ہوں انہیں کھلا کر موٹا تازہ رکھو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پہلے کے واقعے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص کوئی چیز مانگتا ہے اور اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو، جس کی وجہ سے اسے مانگنے کی ضرورت نہ ہو، تو وہ شخص جہنم کے انگارے زیادہ کر رہا ہوتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو مانگنے کی ضرورت نہ ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جو کچھ وہ صبح کرتا ہے اور شام کو کرتا ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے، جو وہ ہمیشہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے کیا تم نے دیکھا نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”صدقہ دینا کسی خوشحال شخص کے لیے اور کام کرنے والے تندرست شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں صدقہ حرام ہونے کی حد اس چیز کو قرار دیا ہے جس کی وجہ سے آدمی لوگوں سے بے نیاز ہو جائے۔ آپ یہ بات یقینی طور پر جانتے ہیں کہ جس شخص کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو وہ ان افراد میں شامل نہیں ہوتا جو دوسروں سے بے نیاز ہو جائیں یہاں تک کہ اس کے لیے صدقہ لینا حرام ہو جائے۔ اس بنیاد پر کہ ان روایات میں روایت کے الفاظ عمومی طور پر منقول ہوئے ہیں۔ لیکن اس سے مراد فرض صدقہ ہے۔ نفلی صدقہ مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3394]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3385»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1441).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو كبشة السلولي ← سهل بن الحنظلية الأنصاري