🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
188. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر البيان بأن لا حرج على المرء في أخذ ما أعطي من غير مسألة ولا إشراف نفس
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر کوئی حرج نہیں اگر وہ بغیر مانگے اور نفس کے میلان کے بغیر دی گئی چیز لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3404
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الأَسُوَدِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلا إِشْرَافِ، نَفْسٍ، فَلِيَقْبَلْهُ، وَلا يَرُدَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الأَمْرُ الَّذِي أُمِرْنَا بِاسْتِعْمَالِهِ هُوَ أَخْذُ مَا أُعْطِيَ الْمَرْءُ، وَالشَّيْئَانِ الْمَعْلُومَانِ الَّذِي أُبِيحَ لَهُ ذَلِكَ عِنْدَ عَدَمِهِمَا هُوَ الْمَسْأَلَةُ وَإِشْرَافُ النَّفْسِ، فَإِنْ وُجِدَ أَحَدُهُمَا فِي الْغَنِيِّ الْمُسْتَقِلِّ بِمَا عِنْدَهُ زُجِرَ عَنْ أَخْذِ مَا أُعْطِيَ دُونَ الْفُقَرَاءِ الْمُضْطَرِّينَ، وَالتَّارَةُ الَّتِي يُبَاحُ فِيهَا أَخْذُ مَا أُعْطِيَ الْمَرْءُ، وَإِنْ وُجِدَ فِيهِ الْمَسْأَلَةُ وَإِشْرَافُ النَّفْسِ هِيَ حَالَةُ الاضْطِرَارِ، وَالاضْطِرَارُ عَلَى ضَرْبَيْنِ: اضْطِرَارٌ بِجِدَةٍ، وَاضْطِرَارٌ بِعُدْمٍ، وَالاضْطِرَارُ الَّذِي يَكُونُ بِجِدَةٍ هُوَ أَنْ يَمْلِكَ الْمَرْءُ الشَّيْءَ الْكَثِيرَ مِنْ حُطَامِ هَذِهِ الدُّنِيَا سِوَى الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ، وَهُوَ فِي مَوْضِعٍ لا يُبَاعُ فِيهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ أَصْلا، فَهُوَ وَإِنْ كَانَ وَاجِدًا، حُكْمُهُ حُكْمُ الْمُضْطَرِّ، لَهُ أَخْذُ مَا أُعْطِيَ، وَإِنْ كَانَ سَائِلا أَوْ مُشْرِفَ النَّفْسِ إِلَيْهِ، وَاضْطِرَارُ الْعُدْمِ هُوَ وَاضِحٌ لا يَحْتَاجُ إِلَى الْكَشْفِ عَنْهُ.
سیدنا خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص کو مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر اپنے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی ملے، تو وہ اسے قبول کر لے وہ اسے واپس نہ کرے، کیونکہ یہ وہ رزق ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ حکم جس پر عمل کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، وہ اس چیز کو لے لینا ہے، جو آدمی کو دی گئی ہو، اور دو متعین چیزیں ایسی ہیں جن کی عدم موجودگی میں (کسی سے کوئی چیز لینا) آدمی کے لیے مباح ہوتا ہے۔ وہ (دو متعین چیزیں) مانگنا اور لالچ ہیں، تو ایسا خوشحال شخص جو مستقل طور پر (خوشحال ہو) اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز اس میں پائی جائے تو اس کے لیے دیئے جانے والے مال کو لینا ممنوع ہو جائے گا۔ یہ حکم اضطرار کا شکار فقیر کے لیے نہیں ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کے لیے ملنے والی چیز کو لینا مباح ہوتا ہے، اگرچہ اس میں مانگنے اور لالچ کی صورت پائی جا رہی ہو، اور یہ حالت اضطرار میں ہوتا ہے۔ اضطرار کی دو صورتیں ہیں۔ ایسا اضطرار جو (مال کی) موجودگی میں ہو، اور ایسا اضطرار (جو مال کی) عدم موجودگی میں ہو۔ وہ اضطرار جو (مال کی) موجودگی میں ہوتا ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اس دنیا کے بہت سے ساز و سامان کا مالک ہو، (لیکن وہ سامان) کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ ہو اور آدمی ایسی جگہ موجود ہو جہاں کھانے پینے کی اشیاء سرے سے فروخت ہی نہ ہوتی ہوں۔ تو آپ اگرچہ اس کے پاس (مال) موجود ہے لیکن اس کا حکم اضطرار کے شکار شخص کا ہو گا۔ اسے جو کچھ دیا جائے وہ لینا اس کے لیے جائز ہو گا۔ اگرچہ وہ شخص مانگنے والا ہو یا اس میں لالچ موجود ہو اور (مال کی) عدم موجودگی کی صورت میں لاحق ہونے والا اضطرار واضح ہے۔ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3404]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3395»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 16)، «الصحيحة» (1005).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خالد بن عدي الجهنيصحابي
👤←👥بسر بن سعيد الحضرمي
Newبسر بن سعيد الحضرمي ← خالد بن عدي الجهني
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← بسر بن سعيد الحضرمي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأسدي، أبو الأسود
Newمحمد بن عبد الرحمن الأسدي ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥سعيد بن مقلاص الخزاعي، أبو يحيى
Newسعيد بن مقلاص الخزاعي ← محمد بن عبد الرحمن الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← سعيد بن مقلاص الخزاعي
ثقة
👤←👥أحمد بن إبراهيم الدورقي، أبو عبد الله
Newأحمد بن إبراهيم الدورقي ← عبد الله بن يزيد العدوي
ثقة حافظ
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← أحمد بن إبراهيم الدورقي
ثقة مأمون