صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
175. فصل في صوم يوم العيد - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم " لا صوم في يوم عيد أراد به الفطر والأضحى
عید کے دن روزہ رکھنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "عید کے دن روزہ نہیں" سے مراد عید الفطر اور عید الاضحی ہیں
حدیث نمبر: 3600
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَجَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا، يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالأَخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ" ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَجَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلِيَنْتَظِرْهَا، وَمَنْ أَحَبَّ أَنَّ يَرْجِعَ فَلِيَرْجِعْ، فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُثْمَانُ مَحْضُورٌ، فَجَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَخَطَبَ النَّاسَ.
ابوعبید جو ابن اظہر کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں عید کے موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شریک ہوا وہ تشریف لائے انہوں نے نماز ادا کی۔ انہوں نے نماز مکمل کی پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ دو دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ ایک اس دن جب تم اپنے روزوں کے بعد عیدالفطر کرتے ہو اور دوسرا وہ دن جس دن میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔ ابوعبید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں بھی عید کی نماز میں شرکت کی، وہ شریف لائے۔ انہوں نے نماز ادا کی جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: آج کے دن تم لوگوں کی دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں (یعنی آج عید کے دن جمعہ بھی ہے)، تو نواحی علاقوں کے رہنے والے لوگوں میں سے جو شخص جمعہ کا انتظار کرنا چاہے وہ اس کا انتظار کرے اور جو شخص واپس جانا چاہے وہ واپس چلا جائے۔ میں اسے اجازت دیتا ہوں۔ ابوعبید نامی راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز عید میں شرکت کی اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گھر میں محصور کر دیا گیا تھا وہ تشریف لائے انہوں نے نماز ادا کی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو لوگوں کو خطبہ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3600]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3591»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2087)، «الإرواء» (4/ 127 - 128): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥سعد بن عبيد الزهري، أبو عبيد سعد بن عبيد الزهري ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعد بن عبيد الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب أحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة | |
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر عمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي | ثقة |
Sahih Ibn Hibban Hadith 3600 in Urdu
سعد بن عبيد الزهري ← عمر بن الخطاب العدوي