صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
105. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر كتبة الله جل وعلا أجر السر وأجر العلانية لمن عمل لله طاعة في السر والعلانية
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنے بندے کے لیے خفیہ اور علانیہ طاعت پر خفیہ اور علانیہ دونوں طرح کا اجر لکھ دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 375
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ وَيُسِرُّهُ، فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ، سَرَّهُ؟ قَالَ:" لَهُ أَجْرَانِ: أَجْرُ السِّرِّ، وَأَجْرُ الْعَلانِيَةِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ" إِنَّ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ وَيُسِرُّهُ، فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ سَرَّهُ" مَعْنَاهُ أَنَّهُ يَسُرُّهُ أَنَّ اللَّهَ وَفَّقَهُ لِذَلِكَ الْعَمَلِ، فَعَسَى يُسْتَنُّ بِهِ فِيهِ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ، كُتِبَ لَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا سَرَّهُ ذَلِكَ لِتَعْظِيمِ النَّاسِ إِيَّاهُ، أَوْ مَيْلِهِمْ إِلَيْهِ، كَانَ ذَلِكَ ضَرْبًا مِنَ الرِّيَاءِ، لا يَكُونُ لَهُ أَجْرَانِ وَلا أَجْرٌ وَاحِدٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص کوئی عمل کرتا ہے اور اسے پوشیدہ رکھتا ہے، لیکن جب اس کا عمل ظاہر ہو جاتا ہے، تو کیا یہ بات اسے اچھی لگنی چاہئے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے شخص کو دو اجر ملیں گے۔ ایک پوشیدہ رکھنے کا اجر اور ایک ظاہر ہونے کا اجر۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ”بے شک ایک شخص ایک عمل کرتا ہے، اور وہ اسے پسند آتا ہے، اور وہ جب اس پر مطلع ہوا جائے، تو یہ چیز اسے اچھی لگتی ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے: آدمی اس بات پہ خوش ہوتا ہے کہاللہ تعالیٰ نے اسے اس عمل کی توفیق دی ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں اس کی پیروی کی جائے، تو جب اس طرح کی صورتحال ہو، تو اسے دو طرح کا اجر ملے گا، اور جب آدمی کو یہ بات اس لیے اچھی لگے تاکہ لوگ اس کی تعظیم کریں گے یا اس کی طرف مائل ہوں گے، یہ ریا کی ایک قسم ہے ایسے شخص کو دگنا اجر نہیں ملے گا بلکہ اسے ایک اجر بھی نہیں ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 376»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (4344).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حبيب بن أبي ثابت مدلس، ولم يصرح بالتحديث، وسعيد بن سنان وثقه أبو داود وأبو حاتم وغيرهما، وقال أحمد: ليس بالقوي في الحديث، وهو من رجال مسلم، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي