صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
69. باب مواقيت الحج - ذكر المواقيت للحاج وما يلبس من اللباس عند إحرامه
میقاتِ حج کا بیان - حاجیوں کے لیے میقات اور احرام کے وقت پہننے والے لباس کا ذکر
حدیث نمبر: 3761
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِنَسَا، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى التَّمِيمِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ أَبُو الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْعُمَرِيُّ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَيَزْعُمُونَ، أَنَّهُ قَالَ:" وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مَنْ يلَمْلَمَ، أَوْ أَلَمْلَمَ"، شَكَّ يَحْيَى. وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟، فَقَالَ:" لا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلا السَّرَاوِيلاتَ، وَلا الْعَمَائِمَ، وَلا الْبَرَانِسَ، وَلا الْخِفَافَ، إِلا أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلانِ، فَلْيُقْطَعِ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلا يَلْبَسُ ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانُ، أَوْ وَرْسٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بلند آواز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں کہ ہم کہاں سے احرام باندھیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ مدینہ ذوالحلیفہ سے، اہل شام جحفہ سے، اہل نجد قرن سے احرام باندھیں گے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”اہل یمن، یلملم سے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) ایلملم سے احرام باندھیں گے۔“ یہ شک یحییٰ نامی راوی کو ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہم احرام باندھیں، تو ہم کون سے کپڑے پہنیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قمیص، شلوار، عمامہ، ٹوپی، موزے نہ پہنو، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں، تو وہ ٹخنوں سے نیچے اپنے موزے کاٹ لے اور (احرام والا شخص) ایسا کوئی کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔“
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ہم احرام باندھیں، تو ہم کون سے کپڑے پہنیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قمیض شلوار، عمامہ، ٹوپی موزے نہ پہنو، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں، تو وہ ٹخنوں سے نیچے اپنے موزے کاٹ لے اور (احرام والا شخص) ایسا کوئی کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3761]
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ہم احرام باندھیں، تو ہم کون سے کپڑے پہنیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قمیض شلوار، عمامہ، ٹوپی موزے نہ پہنو، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں، تو وہ ٹخنوں سے نیچے اپنے موزے کاٹ لے اور (احرام والا شخص) ایسا کوئی کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 133، 1522، 1525، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1182، وابن الجارود فى "المنتقى"، 452، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2589، 2593، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3759، 3760، 3761، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2650، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1737، والترمذي فى (جامعه) برقم: 831، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2914، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8998، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4541» «رقم طبعة با وزير 3753»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3761 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي