صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
104. باب الإحرام - ذكر الاستحباب للملبي عند التلبية إدخال الأصبعين في الأذنين
احرام کا بیان - اس بات کا استحباب کہ تلبیہ کہتے وقت ملبّی اپنی دونوں انگلیوں کو کانوں میں ڈالے
حدیث نمبر: 3801
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا عَلَى وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ: " أَيُّ وَادٍ هَذَا؟"، قَالُوا: وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ:" كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى، يَنْعَتُ مِنْ طُولِهِ، وَشَعَرِهِ، وَلَوْنِهِ، وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي"، ثُمَّ نَفَذْنَا الْوَادِيَ حَتَّى أَتَيْنَا، قَالَ دَاوُدَ: أَظُنُّهُ ثَنِيَّةَ هَرْشَى، قَالَ:" أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟" فَقُلْنَا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى، قَالَ:" كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، خِطَامُ النَّاقَةِ خُلْبَةٌ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ مِنْ صُوفٍ، يُهِلُّ نَهَارًا بِهَذِهِ الثَّنِيَّةِ مُلَبِّيًا" ، الْجُؤَارُ: الابْتِهَالُ، وَالْخُلْبَةُ: الْحَشِيشُ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب ہم وادی ازرق میں آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ وادی ازرق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قدان کے بالوں اور رنگت کا تذکرہ کیا (اور یہ فرمایا) انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں دی ہوئی ہے اور تلبیہ کے الفاظ کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم اس وادی سے آگے بڑھ گئے اور ہم آئے داؤد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ہم ”ہرشی“ نامی گھاٹی پر آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سی گھاٹی ہے؟ ہم نے جواب دیا: یہ ہرشی گھاٹی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں اس وقت بھی سیدنا یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں وہ اپنی سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، جس کی لگام کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے ادنی جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ اس گھاٹی سے گزرتے ہوئے بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3801]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3790»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2023): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو العالية الرياحي ← عبد الله بن العباس القرشي